زراعتی بنک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ مخصوص بینک جو کھیتی باڑی کے لیے کسانوں کو قرضہ دیتے ہیں۔ "خرید کردہ اراضی کوحکومت کسانوں کے ہاتھ فروخت کر دیتی تھی اور قیمت پندرہ سال میں مساوی قسطوں میں زراعتی بینک کے توسل سے وصول کرتی تھی۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٥٧:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت 'زراعتی' کے ساتھ انگریزی اسم 'بنک' لگانے سے مرکب 'زراعتی بنک' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٧ء کو "کرزن نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ مخصوص بینک جو کھیتی باڑی کے لیے کسانوں کو قرضہ دیتے ہیں۔ "خرید کردہ اراضی کوحکومت کسانوں کے ہاتھ فروخت کر دیتی تھی اور قیمت پندرہ سال میں مساوی قسطوں میں زراعتی بینک کے توسل سے وصول کرتی تھی۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٥٧:٣ )

جنس: مذکر